ابنا: ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے صوبہ کشتواڑ میں عیدالفطر کے موقع پر ہندو اور مسلم باشندوں کے درمیان پرتشدد تصادم کے دوران دو افراد ہلاک ہونے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ان واقعات کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور وادی بھر میں سنیچر کو ہڑتال کی کال دے دی ہے۔اطلاعات کے مطابق عید الفطر کے روز کشتواڑ میں جب مسلمان عیدگاہ کی طرف جوق در جوق نماز کے لیے جا رہے تھے تو بعض ہندو شدت پسندوں نے ان پر پتھراؤ کیا اور ان کا مذاق اُڑایا۔ نماز کے بعد مسلمانوں نے جلوس نکالا اور ہندوں کی املاک کو نذرآتش کیا جس کے بعد ہندوں نے بھی مسلمانوں کی دکانوں کو آگ لگا دی۔ حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ضلعی پولیس اور سول انتظامیہ کے افسروں کو تبدیل کردیا گیا ہے۔پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے نیم فوجی دستے اور فوج کی مدد بھی طلب کی۔پولیس کارروائی کے دوران ایک ہندو شہری گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ دوفرقوں کے درمیان پرشدد جھڑپوں کے دوران مقامی ہوٹل میں ملازمت کر رہا ایک مسلمان شہری بھی جانبحق ہوگیا۔دریں اثنا حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ضلعی پولیس اور سول انتظامیہ کے افسروں کو تبدیل کردیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
9 اگست 2013 - 19:30
News ID: 450350
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں عید کے روز ہندو مسلم تصادم میں ایک ہندو ہلاک جبکہ ایک مسلمان جانبحق ہوا ہے۔